قرون وسطیٰ میں بہت سے عیسائی ممالک سال کے آغاز کو کسی نہ کسی مذہبی تہوار سے مناتے یہ کیتھولک چرچ کی اثر رسوخ کی وجہ سے تھی جیسے 25 دسمبر (ولادت مسیح) ، یا ایسٹر کے طور پے۔ یا یورپ کے مشرقی ممالک اس طریقے سے علاحدہ رہے کیونکہ وہ آرتھوڈکس چرچ سے منسلک تھے، وہ اپنا سال 988 سے ہی 1ستمبر کو بدلتے رہےحوالہ درکار؟۔ انگلینڈ میں 1 جنوری کو بطور نئے سال کے تہوار کے منایا جاتا رہا لیکن 12 صدی سے 1752 تک انگلینڈ کا نیا سال 25 مارچ (Lady Day)سے شروع ہوتا رہا۔ مثال کے طور پر پارلیمنٹ کے ریکارڈ کے مطابق چارلس اول کو 30 جنوری 1648 کو سزائے موت دی گئی۔ تاریخ دانوں نے اس تاریخ کو 1 جنوری سے شروع ہونے والے سال کے مطابق رکھنے کے لیے سن کو تبدیل کر کے 1649 کر دیا۔. بہت سے مغربی ممالک نے عیسوی تقویم اپنانے سےپہلے ہی 1جنوری کو سال تبدیل کرنا شروع کر دیا۔ مثال کے طور پر سکاٹ لینڈ نے 166 میں سکاٹش نئے سال کو 1 جنوری کو تبدیل کرنا شروع کیا۔ انگلینڈ، آئرلینڈ اور برطانوی کالونیوں نے 1752 میں 1جنوری سے سال تبدیل کرنا شروع کیا۔اسی سال ستمبر میں پورے برطانیہ اور برطانوی کالونیوں میں عیسوی تقویم متعارف کرایا گیا۔

admin Article's Source: http://aaj.today/1-january/
Author:

  • writerPosted On: July 15, 2017
  • livePublished articles: 5

Comment (1)

  • admin
    admin Say (July 15, 2017 at 10:16 pm)

    nnnn

Most Recent Articles from Aaj Ka Din Category:

Add A Knowledge Base Question !

You will get a notification email when Knowledgebase answerd/updated!

+ = Verify Human or Spambot ?