نصیرالدین ہمایوں: مغلیہ سلطنت کے دوسرے بادشاہ کی زندگی اور کارنامے
نصیرالدین ہمایوں مغلیہ سلطنت کے دوسرے بادشاہ تھے، جنہوں نے برصغیر میں مغلیہ سلطنت کو مستحکم کرنے کی بنیاد رکھی۔ وہ اپنے والد بابر کے جانشین تھے اور ایک بہادر سپاہی، مدبر حکمران، اور علم دوست شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
ابتدائی زندگی
ہمایوں کی پیدائش 6 مارچ 1508ء کو کابل میں ہوئی۔ ان کا اصل نام نصیرالدین محمد تھا، اور وہ ظہیرالدین بابر کے بڑے بیٹے تھے۔
• ہمایوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے والد کے زیر سایہ حاصل کی۔
• ان کا شوق علم و حکمت، ادب، اور فلسفہ کی طرف بہت زیادہ تھا، جو ان کی شخصیت کا اہم حصہ بنا۔
• بابر نے ہمایوں کو نوجوانی میں ہی مختلف مہمات میں شامل کیا تاکہ وہ ایک مضبوط حکمران کے طور پر تیار ہو سکیں۔
حکومت کی ابتدا
• ہمایوں نے 26 دسمبر 1530ء کو اپنے والد بابر کی وفات کے بعد مغلیہ تخت سنبھالا۔
• اس وقت سلطنت کو اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا تھا، جن میں افغان قبائل، راجپوت حکمران، اور دیگر مخالفین شامل تھے۔
• ہمایوں نے ابتدا میں اپنی سلطنت کو مستحکم کرنے کی کوشش کی، مگر کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔
شیر شاہ سوری سے شکست
ہمایوں کی حکمرانی کا سب سے مشکل دور اس وقت شروع ہوا جب افغان سردار شیر شاہ سوری نے ان کے خلاف بغاوت کی۔
• 1539ء: چوسہ کی جنگ میں شیر شاہ سوری نے ہمایوں کو شکست دی۔
• 1540ء: قنوج کی جنگ میں بھی ہمایوں کو شکست ہوئی، جس کے نتیجے میں وہ سلطنت کھو بیٹھے۔
• شیر شاہ سوری نے دہلی کا تخت سنبھال لیا اور مغل سلطنت تقریباً ختم ہو گئی۔
جلاوطنی کا دور
شیر شاہ سوری سے شکست کے بعد ہمایوں کو کئی سال جلاوطنی میں گزارنے پڑے۔
• وہ ایران چلے گئے، جہاں صفوی حکمران شاہ طہماسپ نے ان کا استقبال کیا۔
• ایران میں قیام کے دوران ہمایوں نے فارسی ثقافت اور درباری آداب کو اپنایا، جو ان کی واپسی کے بعد مغلیہ سلطنت میں نظر آئے۔
• شاہ طہماسپ کی مدد سے ہمایوں نے ایک نئی فوج تیار کی اور اپنی سلطنت دوبارہ حاصل کرنے کے لیے تیار ہوئے۔
سلطنت کی بحالی
• 1555ء: ہمایوں نے شیر شاہ سوری کے جانشینوں کو شکست دے کر دہلی کا تخت دوبارہ حاصل کیا۔
• ان کی واپسی کے بعد مغلیہ سلطنت کو دوبارہ مضبوط کیا گیا، اور انتظامیہ کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی۔
• ہمایوں نے ایران سے سیکھی ہوئی ثقافت کو مغلیہ دربار میں متعارف کرایا، جس سے مغلیہ فنون، ادب، اور تعمیرات میں نیا رنگ آیا۔
علم دوستی اور تعمیرات
• ہمایوں علم و ادب کے شیدائی تھے اور انہوں نے اپنے دربار میں علما، شعرا، اور مصوروں کو عزت دی۔
• انہوں نے کئی تعلیمی ادارے اور لائبریریاں قائم کیں۔
• ہمایوں کا مقبرہ دہلی کی مشہور تعمیرات میں سے ایک ہے، جو مغلیہ طرز تعمیر کی ایک شاندار مثال ہے۔
وفات
• ہمایوں کی زندگی کا اختتام ایک حادثے کی وجہ سے ہوا۔
• 24 جنوری 1556ء: دہلی میں اپنی لائبریری کی سیڑھیوں سے گرنے کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔
• ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے اکبر نے مغلیہ سلطنت کا تخت سنبھالا اور اسے مزید مضبوط کیا۔
نتیجہ
نصیرالدین ہمایوں کی زندگی جدوجہد، عزم، اور علم دوستی کی ایک شاندار مثال ہے۔ انہوں نے اپنی حکمرانی میں کئی مشکلات کا سامنا کیا، مگر اپنی سلطنت کو دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کی شخصیت اور کارنامے مغلیہ تاریخ کا ایک اہم باب ہیں، جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔