Article

معروف اداکار علی اعجاز انتقال کر گئے دسمبر 18

پاکستانی فلم اور ٹی وی کے معروف اداکار علی اعجاز منگل کی صبح لاہور میں انتقال کر گئے ہیں۔

ان کی عمر 77 برس تھی اور وہ عارضۂ قلب میں مبتلا تھے۔

علی اعجاز نے اپنے کیریئر کا آغاز تھیٹر سے کیا۔ وہ 1960 کی دہائی میں ایک ایسے وقت منظرِ عام پر آئے جب پاکستان میں تھیٹر کا بول بالا تھا۔ لاہور میں الحمرا آرٹ کونسل کی سٹیج پر کھیل پیش کیے جاتے تھے جو عوام میں بہت مقبول تھے۔

1964 میں لاہور سے ٹی وی کا آغاز ہوا تو اطہر شاہ خان (جیدی) کا لکھا ہوا سلسلے وار کھیل ’لاکھوں میں تین‘ لائیو پیش کیا جانے لگا جس کے تین مرکزی کرداروں میں ایک علی اعجاز نے نبھایا۔ ان کا تکیہ کلام ’ایوری باڈی کو چائے کا صلح مارتا ہے!‘ بچے بچے کی زبان پر آ گیا۔
یہیں سے انھیں میڈیا میں پہلی بریک ملی۔ یہ زمانہ فلموں کے عروج کا دور تھا اور ٹی وی کے راستے بہت سے نئے چہرے پردہِ سیمیں پر نمودار ہو رہے تھے۔

علی اعجاز نے فلموں میں کچھ چھوٹے کردار تو ادا کیے تھے مگر ان کو فلموں میں جانے کا اصل موقع عارف وقار کے پیش کردہ ٹی وی پلے ’دبئی چلو‘ کے بعد ملا۔ اسی کھیل پر مبنی اسی نام کی فلم 1980 میں ریلیز ہوئی جس کے بعد علی اعجاز کو دھڑا دھڑا فلمیں ملنا شروع ہو گئیں۔

1980 کی دہائی میں اداکار ننھا (خاور رفیع) کے ساتھ ان کی جوڑی فلمی ناظرین میں بہت مقبول رہی۔

جب وہ فلموں میں گئے تو ایک پرانی فلمی روایت کے مطابق انھوں نے اپنے لیے ایک فلمی نام بھی چنا جو تھا علی بابا۔ لیکن جب انھیں معلوم ہوا کہ ایک سینیئر ریڈیو آرٹسٹ پہلے یہ نام اپنا چکے ہیں انھوں نے صرف ایک فلم کے بعد یہ نام ترک کر دیا اور واپس علی اعجاز پر آگئے۔

حکومت نے انھیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا تھا۔

’دبئی چلو‘ کے علاوہ جو چیز علی اعجاز کے فن کو عرصہِ دراز تک زندہ رکھے گی وہ عطا الحق قاسمی کے لکھے ہوئے مزاحیہ کھیلوں کے سلسلے ہیں۔

ٹی وی کے ان ڈراموں میں علی اعجاز نے مختلف عمروں، مختلف لہجوں اور مختلف شخصیات والے کردار نبھائے جن سے اس کی اداکاری کے تنوع کا پتا چلتا ہے۔

وہ بوڑھے کرداروں کی ادائیگی میں خاص مہارت رکھتے تھے۔ تولتے منہ والے نیم مخبوط الحواس بوڑھے کا کردار ادا کرنا ان کا من پسند مشغلہ تھا۔ خواجہ اینڈ سنز میں ان کا کردار آج بھی پاکستان ٹیلیویژن کے ناظرین کے پسندیدہ کرداروں میں سے ایک ہے۔

فلموں کے تیزی سے بدلتے ہوئے مزاج کے باعث شاید فلمی دنیا میں انھیں ایک دن فراموش کر دیا جائے لیکن ٹی وی کے ڈراموں میں انھوں نے جو لازوال کردار ادا کیے ہیں وہ بہت دیر تک زندہ رہیں گے۔

Share information
63 views

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

cool good eh love2 cute confused notgood numb disgusting fail