Article

سورن لتا کی وفات فروری 8

سورن لتا 1950ء اور 1960ء کی دہائی کی مشہور ترین پاکستانی اداکارہ تھیں۔ سورن لتا 1944ء میں ہندوستان کی مقبولِ عام اداکارہ تھیں۔ پاکستان میں فلمسازی اور اداکاری کے بانیوں میں شمار ہوتی ہیں۔1924ء میں راولپنڈی میں پیدا ہوئیں اور 8 فروری 2008ء کو فوت ہوئیں۔ وہ اپنے مسلم نام سعیدہ بانو کی بجائے سورن لتا کے نام سے مشہور ہیں۔
ابتدائی حالات
20 دسمبر 1924ء کو راولپنڈی کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئیں۔1940ء کے اوائل میں سورن لتا کا خاندان ممبئی منتقل ہو گیا تھا۔ ابھی سورن لتا نوجواں تھیں کہ اُن کے والدین کا سایہ اُن کے سر سے اُٹھ گیا۔سورن لتا نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد لکھنؤ میں اکادمی موسیقی میں داخلہ لیا۔ ابتداء میں وہ اسٹیج پر اداکاری کے جوہر دکھاتی رہیں۔ 1942ء میں پہلی ہندی فلم میں دکھائی دیں۔ 1950ء میں ہدایتکار نذیر احمد خان سے شادی کے وقت اسلام قبول کر لیا اور نام سعیدہ بانو رکھا۔

بحیثیتِ اداکارہ
سورن لتا پہلی بار بحیثیت اداکارہ 1942ء میں فلم آواز میں فلمی پردے پر ظاہر ہوئیں۔ 1944ء میں وہ ہندوستان کی مقبولِ عام شہرت یافتہ ادکارہ تھیں۔1942ء سے 1948ء تک 16 ہندی زبان کی فلموں میں بحیثیتِ اداکارہ کام کیا۔12 اردو زبان کی فلموں اور 4 پنجابی زبان کی فلموں میں کام کیا۔ 1949ء میں سچائی پہلی اردو زبان کی فلم تھی جس کا سلسلہ 1971ء تک جاری رہا۔ 1949ء کی فلم پھیرے سے اُن کی شہرت زبانِ زد عام ہوئی اور اِس فلم نے سینماء پر 20 سال تک راج کیا۔ اِس کے علاوہ لارے، نوکر، ہیر اور سوال اُن کی مقبول فلمیں تھیں۔ 1955ء میں ہیر سے اُن کی شہرت میں مزید اضافہ ہوا اور یہ فلم زبردست کامیاب ہوئی۔پھیرے 1949ء سورن لتا کی پہلی پنجابی زبان کی فلم تھی، بعد ازاں لارے 1950ء، شہری بابو 1953ء اور بِلو جی 1962ء بھی پنجابی زبان میں تھیں۔

آخری ایام
26 اگست 1983ء کو نذیر احمد خان کا لاہور میں انتقال ہوا تو سورن لتا نے اُن کے بعد 25 سال حالتِ بیوگی میں گزارے۔ 8 فروری 2008ء کو حالت کسمپرسی میں 83 سال کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئیں۔سورن لتا نے اپنے پیچھے تین بیٹیاں (عصمت مرشد، عفت رشید، طلعت عباسی) اور ایک بیٹا اسلم نذیر سوگوار چھوڑا۔

فلمیں
آواز (1942ء)
تصویر (1943ء)
پرتگیا (1943ء)
اشارہ (1943ء)
اُس پار (1944ء)
رونق (1944ء)
رتن (1944ء)
گھر کی شوبھا (1944ء)
پریت (1945ء)
لیلہ مجنوں (1945ء)
پرتیما (1945ء)
چاند تارا (1945ء)
وامق عذار (1946ء)
شام سویرا (1946ء)
عابدہ (1947ء)
گھربار (1948ء)
سچائی (نمائش: 13 مئی 1949ء)
پھیرے (نمائش: 28 جولائی 1949ء)
لارے (نمائش: 17 فروری 1950ء)
انوکھی داستاں (نمائش: 17 نومبر 1950ء)
بھیگی پلکیں (نمائش: 4 جنوری 1952ء)
شہری بابو (نمائش: 13 جون 1953ء)
خاتون (نمائش: 25 مارچ 1955ء)
نوکر (نمائش: 24 مئی 1955ء)
ہیر (نمائش: 28 اکتوبر 1955ء)
سوتیلی ماں (نمائش: 6 جولائی 1956ء)
صابرہ (نمائش: 13 جولائی 1956ء)
نورِ اسلام (نمائش: یکم نومبر 1957ء)
شمع (نمائش: 16 اکتوبر 1959ء)
بِلو جی (نمائش: 13 جولائی 1962ء)
عظمتِ اسلام (نمائش: 5 مارچ 1965ء)
سوال (نمائش: 6 مئی 1966ء)
دنیاء نہ مانے (نمائش: 7 فروری 1971ء)

Share information
78 views

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

cool good eh love2 cute confused notgood numb disgusting fail